Saturday, August 20, 2011

کیسے بچیںالیکٹرانک میڈیا کے مضرات سے


سارہ الیاسی
گزشتہ چند دہائیوں میں انسان نے سائنس اور ٹکنالوجی میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔حیرت انگیز ایجادات اور دم بخود کردینے والے انکشافات منظر عام پر آئے ہیں جن میںریڈیو،ٹیلیویژن ، کمپیوٹر،موبائل فون ،ویڈیوگیم ،انٹرنیٹ وغیرہ شامل ہیں۔ان جدید ایجادات کی وجہ سے انسانی زندگی میں بہت سی سہولتیں فراہم ہوئیں ۔بطور خاص ابلاغ وترسیل کے ایک سے زائد آسان ترین، سہولت بخش طریقے حاصل ہوئے ۔ الیکٹرانک میڈیا ٹی وی اور انٹرنیٹ وغیرہ کے ذریعہ لمحہ بھر میں ایک شخص اپنا پیغام ساری دنیا کو سناتاہے ۔ اس کی وجہ سے رابطہ کے لئے مشرق ومغرب ، شمال وجنوب کا کوئی مسئلہ نہیں رہا۔دوریاں ختم ہوگئیں ، ایسا معلوم ہوتاہے گویاآمنے سامنے معاملات ہورہے ہیں۔ اسی عالمی ارتباط کی وجہ سے تجارتی تعلقات بھی ایک علاقہ اور ایک ملک سے نکل کر عالمی حیثیت اختیار کرچکے ہیں ۔ سرمایہ کاروں کے لئے دنیا کی تمام کمپنیوں کی تفصیلات ، اسکیمیں اور شرائط نظروں کے سامنے ہیں ۔ وہ شرعی حدود کی رعایت کرتے ہوئے جس تجارت میں چاہیں سرمایہ کاری کریں ۔ مال وزر کے تبادلہ کی صعوبتیں باقی نہ رہیں۔ اس کے تبادلہ کے لئے نہ سفر کے اخراجات برداشت کرنے کی ضرورت ہے اور نہ دوران سفر مال ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔انٹرنیٹ ترقی یافتہ ذرائع ابلاغ سے ایک بڑا ذریعہ ہے ۔دنیا کے کسی بھی علاقہ کے باشندگان سے رابطہ کرنا،انہیں پیغام بھیجنا ،ان کی تعلیم وتربیت کرنا،بین الاقوامی سطح پر تجارت کرنا نیزبنکوں اور تجارتی ادا روں کا باہم عالمی پیمانہ پرربط وضبط، انٹرنیٹ کے ذریعہ قائم ہوتاہے۔ علاوہ ازیں آدمی ایک مقام پر بیٹھ کر انٹر نٹ کے ذریعہ ویب سرورپرموجود دنیا کی تمام لائبریریوں کا مطالعہ کرتاہے۔اس طرح انٹر نٹ کے کئی انفرادی اجتماعی ، تعلیمی ومعاشی فوائد ہیں بلکہ یہ ایک عالمی ضرورت بن چکا ہے۔الیکٹرانک میڈیا کے یہ فوائد تو ضرور ہیں لیکن اسی طرح بلکہ اس سے بڑھ کر اس کے نقصانات وتباہ کن نتائج ہیں ، ریڈیو، ٹی وی ،موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ذریعہ ابلاغ وترسیل کے امور تیزترین ہوچکے ہیں ، یہ ذرائع ہیں جن کا استعمال ،مقاصد پر موقوف ہوتاہے ، خیر کےلئے استعمال کیاجائے تو یہ بھلائی کے ذرائع ثابت ہوتے ہیں اور شر کے لئے استعمال کیا جائے تو برائی کے وسائل قرار پاتے ہیں۔ٹی وی چونکہ ابلاغ وترسیل کا اہم ذریعہ ہے ، اس کے ذریعہ عریانیت پر مشتمل ، مخرب اخلاق پروگرام بھی نشر کئے جاتے ہیں، مذہبی وتعلیمی ، ثقافتی وتربیتی پروگرام بھی ، اگر مخرب اخلاق، حیاءسوز پروگراموں سے بالکلیہ اجتناب کرتے ہوئے خالص دینی تعلیمی وثقافتی پروگرام ، اسلامی دروس وغیرہ کی حد تک ہی اس سے استفادہ کیا جائے تو ٹی وی رکھنے اور دیکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔اس کا یہ پہلو مفید ہے لیکن فلمیں ، فحش مناظر اور عریانیت پر مبنی پروگرام دیکھے جائیں تو یہ دینی ودنیوی ہر دو لحاظ سے مضر ونقصاندہ ، ناجائز وحرام ہے ۔اسی لئے دین اسلام نے فتنوں کے سد باب کے لئے ان تمام ذرائع سے اجتناب کرنے کا حکم فرمایا جن سے فتنے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ٹی وی استعمال کے اعتبار سے بمنزل آنکھ ہے جس طرح آنکھ سے جائز ومباح اشیاءکو دیکھنا جائز ہے اور یہ اس کے استعمال کا درست طریقہ ہے ۔ برخلاف اس کے اگر آنکھ سے حرام مناظر اور فحش چیزیں دیکھی جائیں تو یہ ناجائز وحرام ہے اور اس کا غلط استعمال ہے۔ اسی طرح ٹی وی ، انٹرنیٹ وغیرہ کا حکم بھی ان کے استعمال پر ہے ۔ اگر محل مشروع میں استعمال کیا جائے تو جائز اور محل حرام میں استعمال کیا جائے تو ناجائز ہے ۔اصول فقہ کا ایک مسلمہ قاعدہ ہے:الامور بمقاصدہا‘جس کاترجمہ ہے :معاملات ان کے مقاصد کے ساتھ ہیں۔الاشباہ والنظائر- ص22۔جس قدر تیزی کے ساتھ یہ ذرائع امور خیر میں استعمال کئے جارہے ہیں معاشرہ کی اصلاح اور اقدار انسانی کی حفاظت کے لئے کار آمد ثابت ہورہے ہیں ، اس سے کئی گنا زیادہ الیکٹرانک ذرائع ابلاغ کو بداخلاقی وبدکرداری کی اشاعت کے لئے استعمال کیا جارہاہے ، اس کے ذریعہ اخلاق سوز لٹریچر عام کیا جارہاہے ، فحاشی وبے حیائی کی ترویج کی جارہی ہے ، عریانیت کا ننگا ناچ ہورہاہے ، الیکٹرانک میڈیا کی دنیا میں کوسوں دورتک حیاءکا نام ونشان نظر نہیں آتا۔الیکٹرانک میڈیا کے آنے سے یہ غلغلہ مچا کہ دنیا سمٹ کر ایک گاوں کی طرح ہو گئی ہے۔سوال یہ ہے کہ انسانی معاشرہ نے اس سے کس قدر فوائد حاصل کئے ؟ اس کی وجہ سے مغربی تہذیب عام ہوئی۔ جن لوگوں تک مغربی تہذیب کے جراثیم پہنچے نہیں تھے اس کے ذریعہ آسانی سے ان کے ماحول میں سرایت کرگئے۔الیکٹرانک میڈیا کے بے ہنگم اور غیر شرعی استعمال کے بہت سے نقصانات ہوئے ہیں ۔انسانی اقدارتباہ ہوئیں، پاکیزہ تہذیب آلودہ ہوئی ، صالح معاشرہ متاثر ہوا، سوسائٹی کا اخلاقی معیار پستی سے دوچار ہوا، فکری یکسوئی پراگندگی وانتشار میں تبدیل ہوگئی۔
ریڈیو کی تباہ کاری:
الکٹرنک ذائع ابلاغ میں سے ہر ذریعہ اپنے دائرے میں فائدہ مند ثابت ہونے سے زیادہ نقصاندہ اور تباہ کن ثابت ہورہا ہے ۔ گلوبلائزیشن کے اس دور میں ان الیکٹرانک ذرائع کی تباہ کاریوں سے حفاظت ایک صالح معاشرہ اور پاکیزہ سوسائٹی کے لئے ناگزیرہے۔ آج کل ریڈیو دوبارہ استعمال کیا جانے لگا ہے ، ایف ایم ریڈیوکی مقبولیت تقریباً ہرملک میں ہے۔آدمی جب فرصت میں ہوتی ہے خواہ بس یا ٹرین میں سفر کررہاہو یا طویل وقت کے لئے کہیں بیٹھا ہو، یاویٹنگ روم میں انتطارکرہاہو، ایسے وقت اس کا استعمال کیا جاتا ہے ۔یہ کم قیمت میں بہ آسانی میسر آتاہے ، اس لئے کوئی شخص بھی اسے حاصل کرلیتاہے ۔ مختلف مواقع پر نوجوان اپنے قیمتی اوقات کووقت گزاری کے نام پر ریڈیو چینلوں میں صرف کررہے ہیںجس کے نتیجہ میں اپنے فرائض وذمہ داریوں سے غفلت کا شکار نظر آتے ہیں اور گانا سننے اور غلط افسانوں میں وقت عزیز قربان کررہے ہیں۔
ٹی وی چینلوں کی تباہ کاری
ٹی وی چینلوںکا ایک طویل سلسلہ ہے جس کی ہرکڑی عریانیت سے آلودہ ہے ۔فحاشی کے آلائش میں ملوث ہے ۔ الیکٹرانک میڈیا کا ہرڈرامہ ، ہرفلم ،ہرکارٹون ، اجنبی لڑکے اور لڑکی کی محبت اور ان کے تعلق کے گرد گھومتاہے ، اس کی وجہ سے معاشرہ کے نوجوانوں میں جنسی انتشار پھیل چکا ہے۔کارٹون چینل جو محض کمسن بچوں کے لئے لانچ کئے جاتے ہیں ‘ان میں بھی لڑکے اور لڑکی کے کردار دکھائے جاتے ہیں ، جنسی فکر کو برانگیختہ کرنے والی تصویریں پیش کی جاتی ہیں جبکہ بچپن کے سنہری دور میںجو منظر دیکھا جاتا ہے وہ قلب میں جاگزین اور دماغ میں مرتسم ہوجاتاہے ، وہ جو الفاظ سنے جاتے ہیں انھیںدہرایاجاتاہے ۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کمسن بچوں کے لئے احتیاطی تدابیر کا حکم فرمایا، لڑکپن سے ہی ان کابستر علٰحدہ کرنے کا حکم فرمایا جیساکہ حدیث پاک وارد ہے ؛مروا ....المَضَاجِعِ۔یعنی تم اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جبکہ ان کی عمرسات سال ہو اور اس میں کوتاہی پر انہیں سزادو!جبکہ ان کی عمر دس سال ہو ‘ان کے بستروں کو علحدہ کردو۔سنن ابی داود، کتاب الصلوص71، باب متی یومر الغلام بالصل ، حدیث نمبر :495۔سات سال کی عمر ہونے پر گوکہ بچے مکلف نہیں ہوتے لیکن تربیت کے طور پر انہیں نماز و دیگر عبادات کا حکم دینا چاہئے تاکہ انہیں عبادت کرنے کا مزاج بنے‘ عادتیں صالح ہوں،کمسنی سے رب کے حضور کھڑے رہنے، سربسجود ہونے ، اپنے مولی کی بندگی کا ثبوت دینے کا سلیقہ حاصل ہواور اگروہ دس سال کی عمرمیں عبادتوں سے غفلت برتیں اور پابندی کے ساتھ نمازیں نہ پڑھیں توان پرسختی کرنی چاہئے اور تادیب کے طور پر مارناچاہئے۔مذکورہ حدیث شریف میں بچوں کے بستر الگ کرنے کابھی حکم دیا گیاہے۔اس حکم سے معلوم ہوتا ہے کہ بچوں کونیک اعمال کا حکم دینے کے ساتھ ساتھ انہیں تمام قسم کی برائیوں سے بچانے کا اہتمام کیا جائے تاکہ بچہ عفت و پارسائی کی خصلت کے ساتھ پروان چڑھے اور شرافت وپاکیزگی کے سا تھ زندگی گزارتا رہے۔ اس میں دورائے نہیں کہ بچوں کی اخلاقی تربیت کی ضرورت اور اہمیت بلا لحاظ مذہب و ملت ہر شخص جانتا ہے، چونکہ اخلاق کے نہ ہونے سے معاشرہ میں فتنہ و فساد، جھگڑا اور لڑائی تک نوبت پہنچتی ہے،خاندان میں پھوٹ پڑجاتی ہے اور خودبچوں کی ذات میں برائیاں پنپنے لگتی ہیں جس کا سدباب صالح کردار اور صحیح افکار کے بغیر ناممکن ہے۔لہٰذا انتہائی ضروری ہے کہ بہترین اخلاق کی تربیت کے ساتھ بچوں کو مذموم اخلاق اوربری عادات سے دور رکھا جائے، انہیں جنسی بے راہ روی، بدنگاہی، فلم بینی سے کلیةبچایا جائے،اگر بچے بدنگاہی بالخصوص فلم بینی میں مبتلاہوجائیں تو اس کا دینی نقصان تو یقیناہوگااورانکا باطن بھی داغدار ہوجائیگالیکن ا سکے ساتھ یہ بچے دنیاکی نظروں میں بے وقعت ہوجائیں گے۔کمسنی کے اس دور میں اگر ہمارے نونہال کارٹون پروگراموں کے ذریعہ جنسی فکر سے کسی قدر آشنا ہوجائیں یا نیم عریاں لباس سے بھی مانوس ہوجائیں تو یہ بعید نہیں کہ سن بلوغ کو پہنچنے تک وہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہوں گے ۔گناہ سمجھتے ہوئے گناہ کا ارتکاب کیا جائے تو وہ گناہ ہے لیکن جب عورت کی آزادی کے نام سے جسمانی نمائش کا کاروبار کیا جائے تو گناہ کی قباحت اور جرم کی سنگینی بہت بڑھ جاتی ہے۔
کسی قوم کا اثاثہ اس کی نوجوان نسل ہوتی ہے ۔ کمسن بچے مستقبل میں بہت کچھ کرسکتے ہیں لیکن طاقت وصلاحیت نہیں رکھتے جبکہ قوم کے نوجوان ہی اس کی مکمل طاقت ہیں کہ کسی مہم کو سرانجام دیں ۔ مشکل ترین نشانہ تک پہنچنا ان کے لئے کوئی مشکل نہیں ، موسم سرما کی ٹھنڈک وبرودت یا موسم گرما کی حرارت وسوزش ان کی ہمت وحوصلہ کو کم نہیں کرتی ۔رات کی تاریکی یا ہواوں کی سختی سے ان کے پایہ استقامت میں فرق نہیں آتا لیکن یہ نوجوان نسل اگر اپنی ذمہ داریوں سے بے بہرہ ہوجائے تو پھر قوم کا کیا انجام ہوگا؟ ٹی وی چینلوں میں نوجوانوں کے لئے ہر وہ چیز موجود ہوتی ہے جو ان کے اخلاق کو مکمل طور پر تباہ کردے۔ ڈرامے اور فلمیں ہوں یااشتہارات اور خبریں ، ان ٹی وی چیلوں پر اجنبی لڑکیاں بن سنورکر ، عریاں یا نیم عریاں مناظر میں دکھائی جاتی ہیں۔ٹی وی اسکرین شاید ہی کوئی لمحہ اس بے حیائی سے خالی رہتاہو جبکہ اللہ تعالی نے بے حیا،ی اور فحاشی کے قریب جانے سے بھی منع فرمایاہے ارشاد الہی ہے: وَلَ.... بَطَنَ۔ترجمہ: اور بے حیائی کے کاموں کے قرب نہ جاو (چاہے) ظاہر ہوں (چاہے) پوشدہ ہوں- (سورة الانعام-151)جو لوگ بے حیائی اور فحاشی کی اشاعت کو پسند کرتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ ارشاد الہی ہے کہ ترجمہ: بیشک جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی پھیلے ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (سورة النور-19)بدنظری چونکہ بے حیائی اور بڑے گناہوں کی طرف لے جاتی ہے ،اسی لئے اللہ تعالی نے اس سے بچے رہنے کی تاکید فرمائی۔ارشاد الہی ہے کہ اے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم! ایمان والے مردوں سے فرمادیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔اور خواتین کے لئے علیحدہ ارشاد فرمایاکہ:وَقل....روجَھنَّ۔ ترجمہ: اور ایمان والی عورتوں سے فرمادیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اوراپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ (سورالنور۔ 30)مسند امام احمد میں حدیث پاک ہے کہ عن ابی ھریر....و یکذبہ۔ترجمہ: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: زنا میں انسان کے ہر عضو کا حصہ ہوتا ہے، آنکھیں زنا کرتی ہیں اور ان کا زنا دیکھنا ہے، ہاتھ زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا پکڑنا اور گرفت کرنا ہے، پیر زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا چلنا ہے، منہ زنا کرتا ہے اس کا زنا بوس وکنار ہے ، دل خواہش کرتا اور تمنا وآرزو کرتا ہے جب کہ شرمگاہ اس کی تصدیق کرتی ہوئی زنا میں مبتلا ہوتی ہے یا اسے جھٹلاکر زنا سے باز رہتی ہے۔ مسند امام احمد ، حدیث نمبر8752۔ایک نوجوان فطری طور پر صنف نازک کی طرف مائل رہتاہے ، جب اس کی نظر کے سامنے یہ منظر آتاہے تو اس کی ذہنی کیفیت متاثر ہوجاتی ہے ، ٹی وی چینلوں کے یہ فحش مناظر دن میں کئی مرتبہ اس کے ذہن ودماغ پر حملہ کرتے ہیں ۔ روزانہ کے حملوں سے وہ اس کا عادی ہوجاتاہے ۔ان طاقت سوز مناظر کو وہ اپنے سکون کا سامان اور دل لگی کا ذریعہ سمجھ بیٹھتاہے۔ نتیجے کے طور پر قوت ناقص ہوجاتی ہے اورحافظہ کمزور ہوجاتا ہے۔
انٹرنیٹ کی تباہ کاریاں
انٹرنیٹ کے فوائد یقینا بہت زیادہ اور بڑے پیمانہ پر ہیں،اس کے باوجود یہ بے حیائی وفحاشی کا ایک غیر معمولی بڑا ذریعہ ہے ، انٹرنیٹ کے ذریعہ ایک لڑکی اجنبی لڑکے سے بے تکلف تعلق قائم کرتی ہے اور ایک لڑکا اجنبی لڑکی سے بہ آسانی ربط پیدا کرلیتا ہے ، ای میل اور چیٹنگ سے دونوں کے تعلقات بڑھتے جاتے ہیں ، افراد خاندان بھی اس قدر تفصیلات سے واقف نہیں ہوتے جس قدر تفصیل سے یہ دو اجنبی ایک دوسرے سے واقفیت حاصل کرتے ہیں جبکہ اسلام نے اجنبی لڑکا لڑکی کی گفتگو کو ممنوع ٹہرایا ہے ، کلام سے پہلے سلام کا درجہ ہے لیکن نوجوان لڑکی کو سلام کرنے سے تک فقہاءکرام نے منع کیا ہے ۔محض اس لئے کہ فتنہ کا دروازہ کھلنے نہ پائے۔عورت کی آواز بھی پردہ ہے لیکن وائس چیٹنگ کے ذریعہ اجنبی لڑکا لڑکی ایک دوسرے کی آواز بے تکلف سنتے ہیں اور باہم گفتگو کرنے میں ان کے لئے حیاءمانع نہیں ہوتی۔یہی نہیں چیٹنگ کے دوران ویب کیم کے ذریعہ یہ دونوں ایک دوسرے کوبے محابا دیکھتے ہیں ، حیاءکی چادر تارتار ہوئی جاتی ہے لیکن ان کی نگاہیں پست نہیں ہوتیں ۔انٹرنیٹ کے اس بدترین طریقہ استعمال سے تو بادیہ نشینی بہترہے ، اس طرح کے ترقی یافتہ افراد سے دیہات کے سادہ لوح افراد کئی درجہ بہترہیں۔اسی طرح موبائل فون کے ذریعہ ویڈیو کالنگ کی مدد سے ایک دوسرے کو دیکھا جارہا ہے ، اس کے لئے نہ سسٹم اور لیپ ٹاپ کی ضرورت ہے اور نہ کسی اورکنکشن کی ۔جبکہ بدنظری وبدنگاہی سے متعلق وعیدیں آئی ہیں۔امام طبرانی کی معجم کبیر ،امام سیوطی کی جامع الاحادیث اورامام علی متقی ہندی رحمة للہ تعالی علیہ کی کنزالعمال میں حدیث شریف ہے:لتغضن ....ترجمہ:سیدناابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم ضرور اپنی نگاہوں کو نیچی رکھو اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو !ورنہ اللہ تعالی تمہارے چہروں کوبدل دے گا۔(معجم کبیر طبرانی ، حدیث نمبر: 7746-جامع الاحادیث، حرف اللام،حدیث نمبر: 18309- ?نز العمال، حدیث نمبر:13082۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے :مَن....ترجمہ:جوکوئی شہوت کے ساتھ کسی اجنبی عورت کے مقاماتِ زینت کودیکھتا ہے تو قیامت کے دن اس کی آنکھوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا۔ ہدایہ ،کتاب الکراہی ،ج4،ص458۔ان احادیث شریفہ میں غیر مرد کے اجنبی عورت کودیکھنے پر جو وعید آئی ہے وہ اس عورت کے حق میں بھی ہے جو اجنبی مردوں کے سامنے اپنے محاسن کو ظاہر کرتی ہے اور ان کودیکھنے کا موقع دیتی ہے-انٹرنیٹ چیٹنگ ، وائس چیٹنگ اور ویب کیم کے ذریعہ لڑکا لڑکی کے درمیان قائم ہونے والے یہ تعلقات اس قدر قوی اور مستحکم ہوجاتے ہیں کہ معاملہ محض ہمکلامی اور نظر بازی پر ہی ختم نہیں ہوتا بلکہ نوبت میل ملاپ سے لے کر جنسی تعلقات تک پہنچ جاتی ہے۔ جو معاملہ غیر شرعی طریقہ پر وقت گزاری اور دل لگی سے شروع ہوا تھا اس کی انتہاءسنگین طور پر شرعی حدود کی پامالی اور اسلامی قانون کی بھیانک خلاف ورزی پر ہوتی ہے۔اجنبی لڑکیوں اور لڑکوں کا آپس میں جنسی تعلقات رکھنا خواہ کسی نوعیت سے بھی ہوں سخت ناجائز وشدید حرام ہے۔ انٹرنیٹ کا استعمال ہو یا کوئی اور طریقہ کار کسی صورت میں قوانین اسلامیہ واحکام شرعیہ کے حدود کو نہیں توڑا جاسکتا۔تِلک.... الظَّالِمونَ۔ترجمہ: یہ اللہ کی (مقرر کی ہوئی) حدیں ہیں ،تم ان سے آگے نہ بڑھو اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے تو وہی لوگ ظالم ہیں:سورة البقرة،229۔نیز ارشاد الہی ہے:وقد خاب من حمل ظلما۔ترجمہ: اور یقینا وہ شخص نامراد ہوا جس نے تھوڑا بھی ظلم کیا ہو۔صحیح بخاری وصحیح مسلم میں حدیث پا ک ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ترجمہ:جب کوئی زانی زنا کررہا ہوتا ہے تووہ اس وقت کامل مومن نہیں ہوتا۔بحوالہ صحیح بخاری شریف ،کتاب الجمعة ،باب من انتظرحتی تدفن ،حدیث نمبر: 2475۔ مسلم شریف ،کتاب الایمان ،باب بیان نقصان الایمان بالمعاصی ،حدیث نمبر:211 ۔زنا کاری کے مفاسد اور اس کی قباحت وشناعت کو ظاہرکرتے ہوئے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نےزناکو شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ قرار دیا۔ارشاد فرمایا: ما من ذنب بعد .... ترجمہ: شرک کے بعد کوئی گناہ اس نطفہ سے بڑھ کر نہیں جس کو کوئی شخص کسی ایسے رحم میں رکھے جو شرعاً اس کے لئے حلال نہ تھا۔جامع الاحادیث للسیوطی ، حرف الم،حدیث نمبر: 20456۔نکاح کے بغیراجنبیوں سے جنسی تعلقات رکھنا سخت ترین گناہ اورغضب الہی کی آگ کو بڑھکا نے والا سنگین جرم ہے ۔نکاح کے بغیرناجائز تعلقات قائم کرنے پر آمادہ کرنے والی چیزیں:(1)دینی تعلیم سے دوری(2)تربیت میں لاپروائی(3) اوباشوں کی صحبت(4)اسکولوں میں جنسی تعلیم کا فروغ(5) ٹی وی اور فلم بینی(6)انٹرنیٹ کا غلط استعمال(7)وائس چیٹنگ کا ناجائز استعمال(8)ویب کیم کے ذریعہ اجنبی نامحرم کو دیکھنا(9)موبائل فون کے ذریعہ ویڈیوکالنگ ۔اگر جنسی بے راہ روی بدنگاہی سے کلیةً پرہیز نہ کیا جائے تو دینی نقصان کے علاوہ اس کی وجہ سے قسم قسم کی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔ چنانچہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:لم تظہر الفاحشة.... الذین مضوا ۔ترجمہ: جب کسی قوم میں فحاشی کا رواج بڑھتا ہے یہاں تک کہ وہ علانیہ بے حیائی کرنے لگتی ہے تو ان لوگوں کے درمیان طاعون اور ایسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان کے اسلاف کے زمانہ میں موجود نہیں تھیں۔سنن ابن ماجہ ابواب الفتن، ص290، باب العقوبات حدیث نمبر4009۔یوروپی ممالک نے باہمی تعلقات میں جنسی بے راہ روی و عریانیت انتہائی عام کردی ہے، جس طرح تمام افراد خاندان خورد و نوش کے لیے ایک دسترخوان پر جمع ہوتے ہیں اسی طرح دوسرے جنسی امور کی تکمیل کے لیے ایک دوسرے کے سامنے ہونا کوئی عیب و عار نہیں سمجھتے۔ امریکی کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباءو طالبات کے درمیان جنسی جرائم نت نئی شکل میں روز افزوں ہیں۔ چنانچہ اخبارات میں شائع شدہ خبروں کے بموجب معلوم ہوتا ہے کہ غیر شادی شدہ لڑکیاں لاکھوں ناجائز بچے جنم دے رہی ہیں جن لڑکیوں کی عمریں بیس سال سے زائد نہیں تھیں اور ان میں سے اکثر یونیورسٹیوں اور کالجوں کی طالبات ہیں۔
الیکٹرانک میڈیا اور وقت کی تباہی
ریڈیو،ٹی وی ہو یک موبائل ،انٹرنیٹ جب کوئی شخص اسے استعمال کرنے لگتا ہے تو اس کا غیر معمولی وقت ضائع ورائیگاں ہوتا ہے ۔ضرورت کے لئے استعمال یقینا روا ہے لیکن ضرورت سے زائد بے سود اور بے مقصد استعمال سے دیگر نقصانات کے علاوہ وقت کا ضائع ہونا بھی بہت بڑا نقصان ہے۔صحیح بخاری شریف میں حدیث پاک ہے:عَنِ ....فَرَاغ ۔ترجمہ:سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دونعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ اس سے غفلت میں رہتے ہیں: (1)تندرسی اور(2) فرصت۔صحیح بخاری ،کتاب الرقاق، باب ما جاءفی الرقاق.... حدیث نمبر6412۔ ،ج4،کتاب الرقاق ،ص148۔حدیث پاک میں مذکور کلمہ’مغبون ‘کے دو معانی بتلائے گئے ہیں ، ایک یہ کہ ان دونعمتوں سے متعلق بہت سے لوگ نقصان وخسارہ میں ہیں کہ ان نعمتوں سے جیسا استفادہ کرنا چاہئے نہیں کرتے ، فرصت کے بیش قیمت لمحات کو ضائع کرتے ہوئے نقصان وزیاں سے دوچار ہوتے ہیں۔ حدیث پاک کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ بہت سے لوگ ان نعمتوں سے غفلت کا شکار ہیں ، انہیں ان نعمتوں کے نعمت ہونے کا احساس نہیں تبھی تو وہ ان اوقات کو بے سود وبے فائدہ چیز یں سننے میں صرف کرنے کے لئے تیار ہیں ۔لہٰذاوالدین کی اہم ذمہ داری ہے کہ اخلاق کی اصلاح کو پیش نظررکھتے ہوئے اپنے نونہالوں کو ایسی چیزیں نہ دیں جس سے وہ بے حیائی سے آشناہوجائیں ، ٹی وی کے عریاں ونیم عریاں مناظرسے ان کی آنکھوں کی حفاظت کریں ، اگرمذہبی وتعلیمی پروگرام کی خاطر ٹی وی دیکھیں تو ٹی وی سے ہونے والے شراورنقصان کودور کرنے کی تدبیر کریں، اس میں دکھائی دینے والے مناظرکا باقاعدہ سد باب کریں ۔بے حیائی والے چینلوں کی منصوبہ بندروک تھام کریں۔ اسی طرح انٹرنیٹ کے تباہ کن استعمال سے بچوں کو محفوظ رکھیں ، گھرمیں بلاضرورت انٹرنیٹ کنکشن اخلاق کے لئے انتہائی مضراور نقصاندہ ہے ، اگر انٹرنیٹ کے استعمال کی ضرورت ہوتو پاسورڈ وغیرہ سے اس طرح محفوظ رکھیں کہ بچہ والدین کی مرضی کے بغیرانٹرنیٹ استعمال نہ کرسکے۔ جب اسلامی اصول کے مطابق کڑی نگہداشت کی جائے تو بچے باشعورہونے تک ایسے بااخلاق ہونگیں کہ تنہائی میں بھی کسی بے حیائی والے منظر کو دیکھنے سے گریز کریں گے۔ اگر کسی طرح بے حیائی ان کی نگاہوں کے سامنے ہوجائے تو نگاہ جھک جائے گی ، دل ناپسند کرے گا اور تمام اعضاءپر نفرت کے مارے رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے۔ الیکٹرانک میڈیا سے متعلق اہل اسلام کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ریڈیو ، ٹی وی چینلوں ، انٹرنیٹ موبائل فون وغیرہ تمام الیکٹرانک ذرائع ابلاغ کو اسلامی قانون کے مطابق استعمال کریں ، اپنے نونہالوں اور ماتحت افراد کے ہاتھوں میں یہ الیکٹرانک ذرائع دے کر انہیں بے لگام نہ چھوڑیں۔آج ابلاغ و ترسیل کے عصری ذرائع ‘ روزنامے‘ ماہ نامے‘ سالانہ میگزینوں کے علاوہ موبائل فون‘ ٹی وی‘ انٹرنیٹ زیادہ مرکز توجہ ہیں۔ اگر ان ذرائع سے تخریبِ اخلاق ‘ بے حیائی و بے پردگی پھیلائی جارہی ہے تو ان ذرائع کو کلی طور پر چھوڑنے کا حکم نہیں دیا جاسکتا بلکہ دین اسلام ان کو صحیح طریقہ سے استعمال کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔عرب کا طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی اہم بات کہنا منظور ہو اور ساری قوم کو متوجہ کرنا مقصود ہو تو صفا پہاڑ پر چڑھ کر ندا دیتے اور ساری قوم متوجہ ہوجاتی۔ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اعلانیہ اسلام کی عمومی دعوت دینے کے لئے یہی مروجہ طریقہ اختیار فرمایا۔ صفا پہاڑ پر تشریف لے گئے اور قوم کو اسلام کی دعوت دی۔ حق کا پیغام سنایا۔صفا کے علاوہ جبلِ نور‘ کوہِ ابوقبیس‘ مروہ اور دیگر پہاڑبھی تھے ان کی بجائے کوہِ صفا کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انتخاب فرمایا ۔ اپنے عمل مبارک سے امت کی رہنمائی فرمائی اور تعلیم دی کہ پیغام رسانی کے لئے وہ طریقہ اختیار کرنا چاہئے جو زیادہ لوگوں تک اپنی بات کوپہنچانے میں موثروکارآمدہو۔لہٰذا مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ تمام عصری وسائل کو استعمال کریں ۔ اشاعتی اسباب‘ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ تعلیم اتنی عام کردی جائے کہ یہ وسائل و اسباب کا استعمال خیر وبھلائی کے لئے کثرت سے استعمال ہونے لگیں۔مخربِ اخلاق ویڈیو‘ آڈیو اور مضامین و کتب کا جال جس نظم و نسق کے ساتھ پوری دنیا میں پھیل گیا ہے‘ اور اس کے لئے سینکڑوں ریڈیو اور ٹی وی چینل اور ہزاروں ویب سائٹیں کام کررہی ہیں۔دینی تعلیم کے فروغ کی غرض سے اور اصلاحی مقاصد کی تکمیل کے لئے اسی تعداد میں بلکہ اس سے زائد ‘ اخلاقی گندگیوں سے پاک چینل اور فحاشی سے محفوظ ویب سائٹیں مصروف عمل کی جائیں۔ ہر چینل ‘ ہرویب سائٹ ہر ذریعہ ابلاغ وترسیل کااستعمال دینی معلومات کی غیر معمولی تشہیرکیلئے ہو۔اس کے نتائج فوراً نہ سہی بتدریج سامنے آئیں گے ‘مقاصد حاصل ہوتے نظر آئیں گے ‘ ایک حد تک ان کی تکمیل ہوسکے گی نیزعالمی حالات میں مثبت سماجی و معاشرتی ‘ انفرادی و اجتماعی تبدیلی آئے گی۔
sarailliyasi@gmail.com+919811254615

200811 kaisey bachey electronic media ke muzirrat sey by sara illiyasi

Friday, June 17, 2011

موت کے منہ میں جارہی ہے دیہی آبادی


سارہ الیاسی
شہروں کی چمک دمک اور بارونق زندگی دیہات میں بسنے والوں کیلئے پرکشش رہی ہے جبکہ ان کی یہ منتقلی دراصل موت کی جانب سفر ہے۔دیہات گذشتہ روزاقوام متحدہ کے اعداد و شمار نے اس حقیقت پر سے پردہ اٹھایا ہے کہ ہندوستان کی شہری آبادی میں ہر سال 1.1 فیصد اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں آبادی میں کمی کی سالانہ شرح 0.37 فیصد ہے جبکہ ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں شہری آبادی ہندوستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ ہندوستان میں کل شہری آبادی 30 جبکہ امریکہ میں وہاں کی مجموعی آبادی کا 82فیصد بنتی ہے۔ہندوستان میں کی جانے والی اس ریسرچ میں محققین کی ٹیم نے دیہات میں زندگی بسر کرنے والے باشندوں کی صحت کا مقابلہ ان کے ایسے بھائی بہنوں کی صحت کے ساتھ کیا جو ہندوستان کے چار بڑے شہروں لکھنو، ناگپور، حیدر آباد یا بنگلور میں سے کسی ایک میں منتقل ہو گئے تھے اور وہیں رہتے ہیں۔اس طرح پتہ چلا ہے کہ ہندوستان میں دیہی آبادی کی شہروں کی طرف تیزی سے ہونے والی نقل مکانی دراصل عوامی صحت پر گہرے منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔اس رپورٹ کے مطابق دیہی علاقوں میں آباد باشندوں کے مقابلے میں شہروں میں طویل عرصے تک زندگی بسر کرنے والے افراد میں عارضہ قلب اور ذیابیطس کے خطرات کئی گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ جسمانی چربی، بلڈ پریشر اور نہار منہ خون میں پائی جانے والی انسولین کی سطح سے ذیابیطس کے مرض کے خطرات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ان سب میں اضافہ ا ±ن افراد میں پایا گیا جنہیں دیہات سے شہروں میں آکر آباد ہوئے محض ایک عشرے کا عرصہ گزرا ہے۔ اس بارے میں امریکہ کے’جرنل آف ایپی ڈیمیولوجی‘ یعنی وبائی امراض کے بارے میں شایع ہونے والے ایک تحقیقی جریدے میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس کے بعد سے دنیا بھر کی شہری آبادی کی صحت کو لاحق خطرات کو گہری تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے کی جانے والی ریسرچ میں شامل محققین کے گروپ لیڈر سنجے کِنرا، جن کا تعلق ’لندن اسکول آف ہائجین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن‘ سے ہے۔ ان کاماننا ہے کہ’تحقیق کے نتائج بتاتے ہیں کہ انسانی جسم میں فیٹ یا چربی کی مقدار میں ا ±سی وقت تیزی سے اضافہ شروع ہو جاتا ہے، جب کوئی شخص گاو ¿ں یا دیہہ سے شہری ماحول میں آتا ہے۔ ا ±س کے بعد رفتہ رفتہ اس کے اندرCardiometabolic risk factors یا قلبی فعلیات کے نقائص پیدا ہونے کے امکانات بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں‘۔پتہ یہ چلا کہ جو سب سے طویل عرصے سے شہر میں رہ رہا ہے، ا ±س کا بلڈ پریشر سب سے زیادہ تھا۔ مثال کے طور پر ایسے مرد جو کسی بڑے شہر میں 30 سال سے زائد کے عرصے سے زندگی بسر کر رہے ہیں، ا ±ن کا کا بلڈ پریشر ا ±ن مردوں سے زیادہ تھا جو دس سے 20 سال کے درمیان کے عرصے سے شہروں میں آباد ہیں۔دیہات میں رہنے والے مردوں کے جسموں میں چربی کی اوسط مقدار 21 فیصد جبکہ کم از کم دس سال سے شہر وں میں زندگی سکونت اختیار کیے ہوئے مردوں کے جسموں میں چربی کی اوسط مقدار 24 فیصد پائی گئی۔محققین کے گروپ لیڈر’سنجے کِنرانے تاہم اپنی رپورٹ میں تحریر کیا ہے کہ مذکورہ بیماریوں کا تعلق عمر، جنس، ازدواجی حیثیت، رہن سہن کے طریقوں اور پیشے سے نہیں ہوتا۔ لیکن انہوں نے یہ ضرور کہا ہے کہ بدن میں چربی کی مقدار میں کمی بیشی،کمزور سماجی طبقات سے تعلق رکھنے والوں میں زیادہ پائی گئی ہے۔
sarailliyasi@gmail.com+919811254615
180611mot ke mo me ja rahi hey dehi aabadi by sara illiyasi

Monday, April 25, 2011

Medal of Honor: Game Controversy


برقیہ چھاپیے
Medal of Honor: Game ControversySara Illiyasi
Similar to other forms of media, video games have been the subject of argument between leading professionals and restriction and prohibition. Often these bouts of criticism come from use of debated topics such as video game graphic violence, virtual sex, violent and gory scenes, partial or full nudity, portrayal of criminal behavior or other provocative and objectionable material. Video games have also been studied for links to addiction and aggression. Several studies have found that video games do not contribute to these problems. Furthermore, several groups have argued that there are few if any scientifically proven studies to back up these claims, and that the video game industry has become an easy target for the media to blame for many modern day problems. Furthermore, numerous researchers have proposed potential positive effects of video games on aspects of social and cognitive development and psychological well-being. It has been shown that action video game players have better hand-eye coordination and visuo-motor skills, such as their resistance to distraction, their sensitivity to information in the peripheral vision and their ability to count briefly presented objects, than non-players.

The game Medal of Honor (MoH) follows the exploits of Special Forces troops battling insurgents in Afghanistan in 2002. The video game has gone on sale despite calls by the UK defence secretary to ban it.

In August, Defence Secretary Dr Liam Fox called for the game to be banned after it emerged that users could fight as The Taliban. Its developer EA said the game was meant to be realistic, but eventually renamed The Taliban "The Opposition". This edition, the latest in EA's long running series of games bearing the MoH title, has dispensed with its World War II theme and opted to recreate modern combat in the ongoing conflict in Afghanistan. But with 150,000 American, British and Allied troops fighting in Afghanistan, many felt taking on the role of the Taliban was a step too far. Dr Fox described the game as "un-British" and said it was "shocking that someone would think it acceptable to recreate the acts of the Taliban against British soldiers".

EA weathered the storm for a few weeks, but in early October the firm bowed to pressure and took the term "Taliban" out of the multiplayer option. Despite the change, the game is still banned from sale on military bases, although troops can purchase it elsewhere and play it on station.

Over two hundred studies have been published which examine the effects of violence in entertainment media and which at least partially focus on violence in video games in particular. Some psychological studies have shown a correlation between children playing violent video games and suffering psychological effects, though the vast majority stop short of claiming behavioral causation.
sarailliyasi@gmail.com
منگل, 19 اکتوبر 2010 16:06 

متنازع ویڈیو گیم :میڈل آف آنر


برقیہ چھاپیے
Medal of Honor: Game Controversyسارہ الیاسی
یہ ایک ناقابل تردیدسماجی حقیقت ہے کہ انسان ابتداءہی سے فرصت کے اوقات میں تفریحی سرگرمیوں کا شوقین رہا ہے۔پرانے زمانے میںآؤٹ ڈور یعنی گھر سے باہر تیر اندازی، گھڑ دوڑ، کسرت، شہہ زوری جیسے جسمانی صحت کے کھیلوں کے ساتھ ساتھ ان ڈوریعنی گھر کے اندرشطرنج، ڈرافٹ، لوڈو، بیت بازی، پہیلیاں بوجھنا جیسے ذہانت اور حاضر دماغی والے کھیل بھی کھیلے جاتے تھے۔ آج کے جدید ترقی یافتہ دور میں جہاں انسانی سہولت کے لیے بے شمار ایجادات وجود میں آئی ہیں وہیں کھیلوں نے بھی جدید روپ اختیار کرلیا اور کمپیوٹر کی مفید ایجاد نے ان کھیلوں کو ڈیجٹلائزڈ کرکے گھر گھر پہنچادیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج لاکھوں کی تعداد میں ویڈیو گیموں کو ٹی وی اور کنسول سے کمپیوٹر تک ہر سہولت کے مطابق بازار میں بآسانی دستیاب ہیں ۔ان گیموںنے مقبولیت کے ساتھ متنازع حیثیت بھی اختیار کرلی ہے اور یہ بحث بھی جاری ہے کہ کمپیوٹر گیمز کا استعمال تفریح و معلومات اور ذہنی تربیت کرتا ہے یا بچوں میں طبی، نفسیاتی، معاشرتی اور تعلیمی مسائل پھیلارہا ہے جبکہ ایک فوجی بن کرمیدان جنگ میں اترنایا ایک جیٹ جہاز پرواز کرتے ہوئے یا خون آشام بلاؤں کو ختم کرکے دنیا کو بچانابچوں کو ہی نہیں بڑوں کو بھی دلچسپ لگتا ہے۔ جن حالات کسی نے کبھی دیکھا نہیں سنا نہیں ویڈیو گیم کے ذریعہ وہ امیجین کرسکتاہے اور یہ امیجینشن خیالی پلاؤ پکانے سے بہتر ہے۔ سمز گیم کے خالق ول رائٹ کے مطابق گیمرز ایک بالکل نئے طریقے سے سیکھ رہے ہوتے ہیں ۔وہ دنیا کو کی تخلیق کے بارے میں سوچ رہے ہوتے ہیں نہ کہ خاتمہ کے۔یہ سچ ہے ویڈیو گیمز کا اثر ہماری ثقافت پر بھی پڑے گا۔
ایسا ہی ایک یہ ویڈیو گیم ہے’میڈل آف آنر‘(MoH)۔یہ گیم 2002 میں افغانستان میں طالبان کے خلاف سرگرم خصوصی افواج کی کارروائیوں کے بارے میں ہے جو ان دنوں خبروں میں چھایا ہوا ہے۔برطانوی سیکرٹری دفاع کی جانب سے ’میڈل آف آنر‘ نامی ویڈیو گیم پر پابندی کے مطالبے کے باوجود اس گیم کی فروخت شروع ہوگئی ہے۔دراصل رواں برس اگست میں برطانوی سیکرٹری دفاع ڈاکٹر لیئم فاکس نے ان اطلاعات کے بعد اس گیم پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا کہ اس گیم میں صارف طالبان کی جانب سے بھی لڑائی میں حصہ لے سکتا ہے۔ڈاکٹر فاکس نے اس کھیل کو’غیر برطانوی‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ چونکا دینے والی بات ہے کہ برطانوی فوجیوں کے خلاف طالبان کی کارروائیوں کی دوبارہ منظر کشی کسی کے لیے قابلِ قبول ہو سکتی ہے‘۔پابندی کے مطالبے پر گیم بنانے والی کمپنی الیکٹرونکس آرٹس نے کہا تھا کہ وہ اس گیم کو حقیقت کے قریب تر بنانا چاہتے ہیں تاہم بعد ازاں اکتوبر کے آغاز میں انہوں نے طالبان کے لفظ کو حزبِ مخالف سے بدل دیا تھا۔اس تبدیلی کے باوجود یہ گیم اب بھی فوجی اڈوں پر فروخت نہیں کیا جا سکے گا تاہم فوجی اسے باہر سے خرید کر فوجی اڈوں میں لا کر کھیل سکیں گے۔گیمنگ ویب سائٹ یوروگیمر کے لیے کام کرنے والے صحافی جان منکلے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں الیکٹرونکس آرٹس کی جانب سے اپنے صارفین کو طالبان کی جانب سے گیم میں حصہ لینے کی اجازت دینا ایک تشہیری حربہ تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ’وہ یعنی الیکٹرونکس آرٹس جانتے تھے کہ یہ متنازع ہوگا لیکن انہیں توجہ حاصل کرنے کے لیے سب کچھ کرنا تھا اور خصوصاً اس وقت جب ان کا مقابلہ کال آف ڈیوٹی: ماڈرن وارفیئر جیسے دنیا کے سب سے بڑے برانڈ سے ہو‘۔
واضح رہے کہ محض ’میڈل آف آنر‘ پر ہی موقوف نہیں بلکہ اس سے قبل تمام ویڈیو گیم تنقید کا نشانہ بنے ہیں۔ان گیموں پر سب سے زیادہ تنقید یہ ہے کہ اس کے ذریعہ نوجوانوں میں حد سے زیادہ تشدد کو فروغ دیا جارہا ہے، اس تنقید پر کئی اہم اداروں مثلاً ہارورڈ میڈیکل سینٹر فار مینٹل ہیلتھ ، جرنل آف ایڈولسینٹ ہیلتھ اور برٹش میڈیکل جرنل نے بھی ویڈیو گیمز کے استعمال سے پیدا ہونے والی پر تشدد سرگرمیوں کے درمیان لنک ظاہر کیا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ زیادہ تر گیموں میں دکھائے جانے والے تشدد کو بچے اور نوجوان اسکول یا گھر سے باہر اسی طرح نقل کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتے بلکہ ان کے رویوں میں ماردھاڑ کے شامل ہونے حتی کہ گالی گلوچ اور سگریٹ نوشی تک کی لت وہ گیمز سے سیکھتے ہیں۔ان اسٹڈیز سے پتہ چلتا ہے کہ جارحیت اور تشدد پر مبنی ویڈیو گیمز پرتشدد رویے اور مجرمانہ سوچ اور محسوسات، اسکولوں اور کھیل کے میدانوں میں لڑائی جھگڑا، بڑھتے ہوئے جسمانی طاقت کے استعمال کا رجحان اور بہتر سماجی رویوں کی کمی میں گہرا تعلق ہے، پرتشدد گیمز ٹی وی اور فلموں میں دکھائے جانے والے پرتشدد مناظرات سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں کیوں کے اس میں ہونے والی پرتشدد کاروائیوں میں بچہ خود بھی انوالو ہوتاہے۔ ان گیموں میں جنسی بداخلاقی کے پہلو بھی کسی حد تک نمایاں رکھے جاتے ہیں جبکہ بعض گیوںسے بچہ معصوم راہ گیروں، پولیس کو بے دردی سے مارنا سیکھتے ہیں اور اس کے لئے مختلف ہتھیاروں چاقو یا خنجر، بندوقوں اور آتشی اسلحہ، تلواروں اور بیس بال بیٹ کا استعمال کرتے ہیں گیم کھیلنے والا خود کو مجرم کی جگہ تصور کرتے ہوئے کھیلتا ہے۔
منگل, 19 اکتوبر 2010 16:06 

Sunday, April 24, 2011

بے خوفی: قدرت کا بیش قیمت عطیہ!


سارہ الیاسی
گذشتہ دنوں سائنسدانوں نے پتہ چلایا ہے کہ ڈر اور خوف کا تعلق دماغ کی خرابی سے ہے جس کے تئت انسان بے خوف ہوجاتا ہے۔گویا بہادری خوبی نہیں بلکہ دماغ کی خرابی ہے جبکہ اسلام کی روشنی مےںبزدلی اچھے اخلاق میں شمار نہیں ہوتی۔دراصل اخلاق دراصل ان صفات اور افعال کو کہا جاتا ہے جو انسان کی زندگی میں اس قدر رچ بس جاتے ہیں کہ غیر ارادی طورپربھی ظہور پذیر ہونے لگتے ہیں۔ موقع پڑنے پربہادرشخص فطری طور پر میدا ن کی طرف بڑھنے لگتا ہے جبکہ بزدل طبیعی انداز سے پرچھائیوں سے ڈرنے لگتا ہے۔ کریم کا ہاتھ خود بخود جیب کی طرف بڑھ جاتا ہے اور بخیل کے چہرے پر سائل کی صورت دیکھ کر ہوائیاں اڑنے لگتی ہیں۔ اسلام نے غیر شعوری اور غیر ارادی اخلاقیات کو شعوری اور ارادی بنانے کا کام بھی انجام دیاہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان ان صفات کو اپنے شعور اور ارادہ کے ساتھ پیدا کرے تاکہ ہر اہم سے اہم موقع پر صفت اس کا ساتھ دے ورنہ اگر غیر شعوری طور صفت پیدا بھی کرلی ہے تو حالات کے بدلتے ہی اس کے متغیر ہو جانے کا خطرہ رہتا ہے۔ اسلام نے صاحب ایمان کی اخلاقی تربیت کاسامان فراہم کیا ہے اور یہ چاہا ہے کہ انسان میں اخلاقی جوہر بہترین تربیت اور اعلیٰ ترین شعور کے زیر اثر پیدا ہو۔
سخت ترین حالات میں قوت برداشت کا باقی رہ جانا ایک بہترین اخلاقی صفت ہے لیکن یہ صفت بعض اوقات بزدلی اور نافہمی کی بنا پر پیدا ہوتی ہے اور بعض اوقات مصائب و مشکلات کی صحیح سنگینی کے اندازہ نہ کرنے کی بنیاد پر۔ اسلام نے یہ چاہا ہے کہ یہ صفت مکمل شعور کے ساتھ پیدا ہو اور انسان یہ سمجھے کہ قوت تحمل کا مظاہرہ اس کا اخلاقی فرض ہے جسے بہر حال ادا کرنا ہے۔ تحمل نہ بزدلی اور بے غیرتی کی علامت بننے پائے اور نہ حالات کے صحیح ادراک کے فقدان کی علامت قرار پائے۔ ولنبلونکم بشئی من الخوف و الجوع .........من ربہم و رحمة و اولئک ہم المہتدون‘’ یقینا ہم تمہارا امتحان مختصر سے خوف اور بھوک اور جان، مال اور ثمرات کے نقص کے ذریعہ لیں گے اور پیغمبر آپ صبر کرنے والوں کو بشارت دے دیں جن کی شان یہ ہے کہ جب ان تک کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے لیے ہیں اور اسی کی بارگاہ میں پلٹ کر جانے والے ہیں۔ انہیں افراد کے لیے پروردگار کی طرف سے صلوات اور رحمت ہے اور یہی ہدایت یافتہ لوگ ہیں۔‘گویاخوف خرابی نہیں بلکہ امتحان ہے۔جبکہ امتحان اس لئے درپیش آتے ہیں تاکہ کامیاب لوگوں کے درجے بلند کرائیں۔
 آیت کریمہ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام قوت تحمل کی تربیت دینا چاہتا ہے اور مسلمان کو ہر طرح کے امتحان کے تیار کرنا چاہتا ہے اور پھر تحمل کو بزدلی سے الگ کرنے کے لیے ’انا للہ و انا الیہ راجعون ‘کی تعلیم دیتا ہے اور نقص اموال اور انفس کو خسارہ تصور کرنے کے جواب میں صلوات اور رحمت کا وعدہ کرتا ہے تاکہ انسان ہر مادی خسارہ اور نقصان کے لیے آمادہ رہے اور اسے یہ احساس رہے کہ مادی نقصان، نقصان نہیں ہے بلکہ صلوات اور رحمت کا بہترین ذریعہ ہے۔ انسان میں یہ احساس پیدا ہوجائے تو وہ عظیم قوت تحمل کا حامل ہوسکتا ہے اور اس میں یہ اخلاقی کمال شعوری اور ارادی طور پر پیدا ہوسکتا ہے اور وہ ہر آن مصائب کا استقبال کرنے کے لیے اپنے نفس کو آمادہ کر سکتا ہے۔ ’الذین قال لہم الناس ان الناس قد جمعوا لکم فاخشو ہم........ وابتعوا رضوان اللہ واللہ ذو فضل عظیم‘’وہ لوگ جن سے کچھ لوگوں نے کہا کہ دشمنوں نے تمہارے لیے بہت بڑا لشکر جمع کر لیا ہے تو ان کے ایمان میں اور اضافہ ہوگیا اور انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے خدا کافی ہے اور وہی بہترین محافظ ہے جس کے بعد وہ لوگ نعمت و فضل الہی کے ساتھ واپس ہوئے اور انہیں کسی طرح کی تکلیف نہیں ہوئی اور انہوں نے رضائے الہی کا اتباع کیا، اور اللہ بڑے عظیم فضل کا مالک ہے۔‘
آیت کریمہ کے ہر لفظ میں ایک نئی اخلاقی تربیت پائی جاتی ہے اور اس سے مسلمان کے دل میں ارادی اخلاق اور قوت برداشت پیدا کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ دشمن کی طرف سے بے خوف ہوجانا شجاعت کا کمال ہے لیکن حسبنا اللہ کہہ کر بے خوفی کا اعلان کرنا ایمان کا کمال ہے۔ بے خوف ہوکر نامناسب اور متکبرانہ انداز اختیار کرنادنیاوی کمال ہے اور رضوان الہی کا اتباع کرتے رہنا اسلامی کمال ہے۔اسلام ایسے ہی اخلاقیات کی تربیت کرنا چاہتا ہے اور مسلمان کو اسی منزل کمال تک لے جانا چاہتا ہے۔ ’ولما..... و صدق اللہ و رسولہ و ما زاداہم الا ایماناً تسلیماً‘(احزاب ۲۲)’اور جب صاحبان ایمان نے کفار کے گروہوں کو دیکھا تو برجستہ یہ اعلان کردیا کہ یہی وہ بات ہے جس کا خدا و رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور ان کا وعدہ بالکل سچا ہے اور اس اجتماع سے ان کے ایمان اور جذبہ تسلیم میں مزید اضافہ ہوگیا۔‘
مصیبت کو برداشت کر لینا ایک انسانی کمال ہے لیکن اس شان سے استقبال کرنا گویا اسی کا انتظار کر رہے تھے اور پھر اس کو صداقت خدا اور رسول کی بنیاد قرار دے کر اپنے ایمان و تسلیم میں اضافہ کر لینا وہ اخلاقی کمال ہے جسے قرآن مجید اپنے ماننے والوں میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ’وکاین من .... یحبّ الصابرین“ (آل عمران ۱۴۶) ’اور جس طرح بعض انبیاءکے ساتھ بہت سے اللہ والوں نے جہاد کیا ہے اور اس کے بعد راہ خدا میں پڑنے والی مصیبتوں نے نہ ان میں کمزوری پیدا کی اور نہ ان کے ارادوں میں ضعف پیدا ہوا اور نہ ان میں کسی طرح کی ذلّت کا احساس پیدا ہوا کہ اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔‘آیت سے صاف واضح ہوتا ہے کہ اس واقعہ کی ذریعہ ایمان والوں کواخلاقی تربیت دی جا رہی ہے اور انہیں ہر طرح کے ضعف و ذلت سے اس لیے الگ رکھا جا رہا ہے کہ ان کے ساتھ خدا ہے اور وہ انہیں دوست رکھتا ہے اور جسے خدا دوست رکھتا ہے اسے کوئی ذلیل کرسکتا ہے اور نہ بیچارہ بنا سکتا ہے۔ یہی ارادی اخلاق ہے جواسلام کا طرہ امتیاز ہے اور جس سے دنیا کے سارے مذاہب و اقوام بے بہرہ ہیں۔ ’وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ہوناً واذا خاطبہم الجاہلون قالوا سلاماً...... فیہا تحیہ وسلاما“ ( فرقان ۶۳)’اور اللہ کے بندے وہ ہیں جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب کوئی جاہلانہ انداز سے ان سے خطاب کرتا ہے تو اسے سلامتی کا پیغام دیتے ہیں۔۔ یہی وہ لوگ جنہیں ان کے صبر کی بنا پر جنت میں غرفے دیے جائیں گے اور تحیہ اور سلام کی پیش کش کی جائے گی۔
 اس آیت میں بھی صاحبان ایمان اور عباد الرحمن کی علامت قوت تحمل و برداشت کو قرار دیا گیا ہے لیکن قالوا سلاماًکہہ کراس کی ارادیت اور شعوری کیفیت کا اظہار کیا گیا ہے کہ یہ سکوت بر بنائے بزدلی اور بے حیائی نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک اخلاقی فلسفہ ہے کہ وہ سلامتی کا پیغام دے کر دشمن کو بھی راہ راست پر لانا چاہتا ہیں۔واضح رہے کہ ان تمام آیات میں صبر کرنے والوں کی جزا کا اعلان تربیت کا ایک خاص انداز ہے کہ اس طرح قوت تحمل بیکار نہ جانے پائے اور انسان کو کسی طرح کے خسارہ اور نقصان کا خیال نہ پیدا ہو بلکہ مزید تحمل و برداشت کا حوصلہ پیدا ہوجائے کہ اس طرح خدا کی معیت، محبت، فضل عظیم اورتحیہ و سلام کا استحقاق پیدا ہوجاتا ہے جو بہترین راحت وآرام اور بے حساب دولت و ثروت کے بعد بھی نہیں حاصل ہوسکتاہے۔اسلام کا سب سے بڑا امتیاز یہی ہے کہ وہ اپنی تعلیمات میں اس عنصر کونمایاں رکھتا ہے اور مسلمان کو ایسا با اخلاق بنانا چاہتا ہے جس کی اخلاقیات صرف افعال، اعمال اور عادات نہ ہوں بلکہ ان کی پشت پر فکر، فلسفہ، عقیدہ اور نظریہ ہو اور وہ عقیدہ و نظریہ اسے مسلسل دعوت عمل دیتا رہے اور اس کی اخلاقیات کو مضبوط سے مضبوط تر بناتا رہے۔
قوت تحمل کے ساتھ اسلام نے ایمانی جذبات کے بھی مرقع پیش کیے ہیں جن سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وہ تحمل و حلم کو صرف منفی حدوں تک نہیں رکھنا چاہتا ہے بلکہ مصائب و آفات کے مقابلہ میں ایک مثبت رخ دینا چاہتا ہے۔ ’فالقی السحرة ..... وما اکرہتنا علیہ من السحر واللہ خیر و ابقی“ (طہ ۰۷ تا۷۳)پس جادو گر سجدے میں گر پڑے اور انہوں نے کہا کہ ہم ہارون اور موسیٰ کے رب پر ایمان لے آئے تو فرعون نے کہا کہ ہماری اجازت کے بغیر کس طرح ایمان لے آئے بے شک یہ تم سے بڑا جادو گر ہے جس نے تم لوگوں کو جادو سکھایا ہے تو اب میں تمہارے ہاتھ پاو ¿ں کاٹ دوں گا اور تمہیں درخت خرما کی شاخوں پر سولی پر لٹکا دوں گا تاکہ تمھیں معلوم ہو جائے کہ کس کا عذاب زیادہ سخت تر ہے اور زیادہ باقی رہنے والا ہے۔ ان لوگوں نے کہا کہ ہم تیری بات کو موسیٰ کے دلائل اور اپنے پروردگار مقدم نہیں کرسکتے ہیں اب تو جو فیصلہ کنا چاہے کر لے تو صرف اسی زندگانی دنیا تک فیصلہ کر سکتا ہے اور ہم اس لیے ایمان لے آئے ہیں کہ خدا ہماری غلطیوں کو اور اس جرم کو معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیاتھا اور بے شک خدا ہی عین خیر اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔’الا تنصروہ فقد نصرہ اللہ ..... کفرو السفلیٰ و کلمة اللہ ہی العلیا اللہ عزیز حکیم۔‘(توبہ ۰۴)
 ’اگر اتم ان کی نصرت نہیں کروگے تو خدا نے ان کی نصرت کی ہے جب انہیں کفار نے دو کا دوسرا بنا کروطن سے نکال دیا اور وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ رنج مت کرو خدا ہمارے ساتھ ہے تو خدا نے ان پر اپنی طرف سے سکون نازل کردیااور ان کی تائید اسے لشکروں کے ذریعہ کی جن کا مقابلہ نا ممکن تھا اور کفار کے کلمہ کو پست قرار دیا اور اللہ کا کلمہ تو بہر حال بلند ہے اور اللہ صاحب عزت بھی ہے اور صاحب حکمت بھی ہے۔‘
 آیت اولیٰ میں فرعون کے دور کے جادوگروں کے جذبہ ایمانی کی حکایت کی گئی ہے جہاں فرعون جیسے ظالم و جابر کے سامنے بھی اعلان حق میں کسی ضعف و کمزوری سے کام نہیں لیا گیا اور اسے چیلنج کر دیا گیاکہ تو جو کرنا چاہے کرلے۔ تیرا اختیار زندگانی دنیا سے آگے نہیں ہے اور صاحبان ایمان آخرت کے لیے جان دیتے ہیں انہیں دنیا کی راحت کی فکر یا مصائب کی پروا نہیں ہوتی ہے۔
اور دوسری آیت میں سرکار دو عالم کے حوصلہ کا تذکرہ کیا گیا ہے اور صورت حال کی سنگینی کو واضح کرنے کے لیے ساتھی کا بھی ذکر کیا گیا جس پر حالات کی سنگینی اور ایمان کی کمزوری کی بنا پر حزن طاری ہو گیا اور رسول اکرم کو سمجھانا پڑا کہ ایمان و عقیدہ صحیح رکھو۔ خدا ہمارے ساتھ ہے اور جس کے ساتھ خدا ہوتا ہے اسے کوئی پریشانی نہیں ہوتی ہے اور وہ ہر مصیبت کا پورے سکون اور اطمینان کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے۔ اس کے بعد خدائی تائید اور امداد کا تذکرہ کرکے یہ بھی واضح کردیاگیا کہ رسول اکرم کا ارشاد صرف تسکین قلب کے لیے نہیں تھا بلکہ اس کی ایک واقعیت بھی تھی اور یہ آپ کے کمال ایمان کا اثر تھا کہ آپ پر کسی طرح کا حزن و ملال طاری نہیں ہوا اور آپ اپنے مسلک پر گامزن رہے اور اسی طرح تبلیغ دین اور خدمت اسلام کرتے رہے جس طرح پہلے کر رہے تھے بلکہ اسلام کا دائرہ اس سے زیادہ وسیع تر ہو گیا کہ نہ مکہ کا کام انسانوں کے سہارے شروع ہوا تھا اور نہ مدینہ کا کام انسانوں کے سہارے شروع ہونے والا ہے۔ مکہ کا صبر و تحمل بھی خدائی امداد کی بنا پر تھا اور مدینہ کا فاتحانہ انداز بھی خدائی تائید و نصرت کے ذریعہ ہی حاصل ہو سکتا ہے۔
میدان جہاد میں زور بازو کا مظاہرہ کرنا یقینا ایک عظیم انسانی کارنامہ ہے لیکن بعض روایات کی روشنی میں اس سے بالاتر جہاد سلطان جابر کے سامنے کلمہ حق کا زبان پر جاری کرنا ہے اور شاید اس کا راز یہ ہے کہ میدان جنگ کے کارنامے میں بسا اوقات نفس انسان کی ہمراہی کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے اور انسان جذباتی طور بھی دشمن پر وار کرنے لگتاہے جس کا کھلا ہوا ثبوت یہ ہے کہ مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام نے عمرو بن عبدود کی بے ادبی کے بعد اس کا سر قلم نہیں کیا اور سینے سے اتر آئے جہاد راہ خدا میں جذبات کی شمولیت کا احساس نہ پیدا ہوجائے لیکن سلطان جائر کے سامنے کلمہ حق کے بلند کرنے میں نفس کی ہمراہی کے بجائے شدید ترین مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جہاں نفس انسانی کبھی ضائع ہوتے ہوئے مفادات کی طرف متوجہ کرتا ہے اور کبھی آنے والے خطرات سے آگاہ کرتا ہے اور اس طرح یہ جہاد ’جہاد میدان‘سے زیادہ سخت تر اور مشکل تر ہوجاتا ہے جسے روایات ہی کی زبان میں جہاد اکبر سے تعبیر کیا گیاہے۔ جہاد باللسان بظاہر جہاد نفس نہیں ہے لیکن غور کیا جائے تو یہ جہاد نفس کا بہترین مرقع ہے خصوصیت کے ساتھ اگر ماحول ناسازگار ہواور تختہ دار سے اعلان حق کرنا پڑے۔
اسلام نے مرد مسلم میں اس ادبی شجاعت کو پیدا کرنا چاہا ہے اور اس کا منشاءیہ ہے کہ مسلمان اخلاقیات میں اس قدر مکمل ہو کہ اس کے نفس میں قوت تحمل و برداشت ہو۔ اسکے دل میں جذبہ ایمان و یقین ہو اور اس کی زبان، اس کی ادبی شجاعت کا مکمل مظاہرہ کرے جس کی تربیت کے لیے اس نے ان واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ’قال رجل مومن من آل فرعون..... اللہ لا یہدی من ہو مسرف مرتاب۔“ (غافر۶۲)
 ’فرعون والوں میں سے ایک مرد مومن نے کہا جو اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا کہ کیا تم کسی شخص کو صرف اس بات پرقتل کرناچاہتے ہو کہ جو اللہ کو اپنا پروردگار کہتا ہے جب کی وہ اپنے دعوے پر کھلی ہوئی دلیلیں بھی لا چکا ہے۔ تو آگاہ ہوجاو اگر وہ جھوٹا ہے تو اپنے جھوٹ کا ذمہ دار ہے لیکن اگر سچا ہے تو بعض وہ مصیبتیں آسکتی ہیں جن کا وہ وعدہ کر رہا ہے۔ بے شک خدا زیادتی کرنے والے اور شک کرنے والے انسان کی ہدایت نہیں کرتا ہے۔
 اس آیت کریمہ میں مرد مومن نے اپنے صریحی ایمان کی پردہ داری ضرور کی ہے لیکن چند باتوں کا واضح اعلان بھی کر دیا ہے جس کی ہمت ہر شخص میں نہیں ہو سکتی۔ یہ بھی اعلان کردیا ہے کہ یہ شخص کھلی ہوئی دلیلیں لے کر آیا ہے۔ یہ بھی اعلان کر دیا ہے کہ وہ اگر جھوٹا ہے تو تم اس کے جھوٹ کے ذمہ دار نہیں ہو، اور نہ تمہیں قتل کرنے کا کوئی حق ہے۔ یہ بھی اعلان کردیا ہے کہ وہ اگر سچا ہے تو تم پر عذاب نازل ہو سکتا ہے۔ یہ بھی اعلان کردیا ہے کہ یہ عذاب اس کی وعید کا ایک حصہ ہے ورنہ اس کے بعد عذاب جہنم بھی ہے۔ یہ بھی اعلان کردیا ہے کہ تم لوگ زیادتی کرنے والے اور حقائق میں تشکیک کرنے والے ہو ، اور ایسے افراد کبھی ہدایت یافتہ نہی ہوسکتے۔ اور ادبی شجاعت کا اس سے بہتر کوئی مرقع نہیں ہو سکتاہے کہ انسان فرعونیت جیسے ماحول میں اس قدر حقائق کے اظہار اور اعلان کے اظہار کی جرا ¿ت و ہمت رکھتا ہو۔واضح رہے کہ اس آیت کریمہ میں پروردگار عالم نے اس مرد مومن کو مومن بھی کہا ہے اور اس کے ایمان کے چھپانے کا بھی تذکرہ کیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان ایک قلبی عقیدہ ہے اور حالات و مصالح کے تحت اس کے چھپانے کو کتمان حق سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا ہے جیسا کہ بعض دشمنان حقائق کا وطیرہ بن گیا ہے کہ ایک فرقہ کی دشمنی میں تقیہ کی مخالفت کرنے کرنے کے لئے قرآن مجید کے صریحی تذکرہ کی مخالفت کرتے ہیں اور اپنے لیے عذاب جہنم کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ قال ماخطبکن اذراودتن یوسف .....عن نفسہ و انہ لمن الصادقین“ (یوسف ۵۱)
 ’جب مصر کی عورتوں نے انگلیاں کاٹ لیں اور عزیز مصر نے خواب کی تعبیر کے لئے جناب یوسف کو طلب کیا تو انہوں نے فرمایاکہ عورتوں سے دریافت کروکہ انہوں نے انگلیاں کاٹ لیں اور اس میں میری کیا خطا ہے؟....عزیز مصر نے ان عورتوں سے سوال کیا تو انہوں نے جواب دیاکہ خدا گواہ ہے کہ یوسف کی کوئی خطا نہیں ہے۔۔ توعزیز مصر کی عورتوں نے کہاکہ یہ سب میرا اقدام تھا اور یوسف صادقین میں سے ہیں اوراب حق بالکل واضح ہوچکاہے۔‘اس مقام پر عزیز مصر کی زوجہ کا اس جرا ¿ت وہمت سے کام لینا کہ بھرے مجمع میں اپنی غلطی کا اقرار کرلیا اور زنان مصر کا بھی اس جرا ¿ت کا مظاہرہ کرنا کہ عزیز مصرکی زوجہ کی حمایت میں غلط بیانی کرنے کی بجائے صاف صاف اعلان کر دیاکہ یوسف میں کوئی برائی اور خرابی نہےںہے۔
ادبی جرا ¿ت وشجاعت کے بہترین مناظر میں جنکا تذکرہ کر کےاسلام مسلمان کی ذہنی اور نفسیاتی تربیت کرنا چاہتا ہے۔’وجاءمن اقصی المدینةرجل یسعیٰ ..... اذا لفی ضلال مبین انی آمنت بربکم فاسمعون۔“(یس۰۲)
 ’اور شہرکے آخر سے ایک شخص دوڑتا ہواآیااور اسنے کہا کہ اے قوم!مرسلین کا اتباع کرو،اس شخص کا اتباع کروجوتم سے کوئی اجر بھی نہیں مانگتاہے اور وہ سب ہدایت یافتہ بھی ہیں،اور مجھے کیا ہو گیا ہے کہ میں اس خدا کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور تم سب اسی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہو۔کیا میں اس کے علاوہدوسرے خداوں کو اختیار کر لوں جب کہ رحمٰن کوئی نقصان پہونچانا چاہے توان کی سفارش کسی کام نہیں آسکتی ہے اور نہ یہ بچا سکتے ہیں،میں تو کھلی گمراہی میں مبتلا ہوجاو ¿ں گا۔بےشک میں تمہارے خدا پر ایمان لا چکا ہوں لھذاتم لوگ بھی میری بات سنو۔‘ !
آیت کریمہ میں اس مرد مومن کے جن فقروں کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ ادبی شجاعت کا شاہکار ہیں۔ اس نے ایک طرف داعی حق کی بے نیازی کا اعلان کیا کہ وہ زحمت ہدایت بھی برداشت کرتا ہے اور اجرت کا طلبگار بھی نہیں ہے۔ پھر اس کے خدا کو اپنا خالق کہہ کر متوجہ کیا کہ تم سب بھی اسی کی بارگاہ میں جانے والے ہو تو ابھی سے سوچ لو کہ وہاں جا کر اپنی ان حرکتوں کا کیا جواز پیش کروگے۔ پھر قوم کے خداو ¿ں کی بے بسی اور بے کسی کا اظہار کیا کہ یہ سفارش تک کرنے کے قابل نہیں ہیں ، ذاتی طور پر کونسا کام انجام دے سکتے ہیں۔ پھر قوم کے ساتھ رہنے کو ضلال مبین اور کھلی ہوئی گمراہی سے تعبیر کر کے یہ بھی واضح کردیا کہ میں جس پر ایمان لایا ہوں وہ تمہارا بھی پروردگار ہے۔ لہذا مناسب یہ ہے کہ اپنے پروردگار پر تم بھی ایمان لے آو ¿اور مخلوقات کے چکر میں نہ پڑو۔ ’ان قارون کان من قوم موسیٰ .....الارض ان اللہ لا یحب المفسدین۔‘ (قصص ۷۶۔۷۷)’بے شک قارون موسیٰ ہی کی قوم میں سے تھا لیکن اس نے قوم پر زیادتی کی اور ہم نے اسے اس قدر خزانے عطا کئے کہ بڑی جماعت بھی اس کا بار اٹھا نے سے عاجز تھی تو قوم نے اس سے کہا کہ غرور مت کر کہ خدا غرور کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ہے۔آیت سے صاف واضح ہوتا ہے کہ قارون کے بے تحاشہ صاحب دولت ہونے کے با وجود قوم میں اس قدر ادبی جرا ¿ت موجود تھی کہ اسے مغرور اور مفسد قرار دے دیا ، اور یہ واضح کر دیا کہ خدا مغرور اور مفسد کو نہیں پسند کرتا ہے اور یہ بھی واضح کردیا کہ دولت کا بہترین مصرف آخرت کا گھر حاصل کر لینا ہے ورنہ دنیا چند روزہ ہے اور فنا ہو جانے والی ہے۔
 sarailliyasi@gmail.com
9873517531